تحریر:علی خان
تبدیلی سرکار کے عہد میں راگ نیا ہے مگر تان وہی پرانی ۔اب یہ بات پاکستان میں عام کہی جاتی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو باہر سے کہیں نہیں مگر اندر سے خطرہ ہے۔ بنسبت نئی سیاسی جماعت ہونے کے یہ اچھی خبر نہیں ہے۔ ملکی سطح پر بھی پی ٹی آئی کو کچھ ایسے ہی راہنماؤں کا ساتھ حاصل ہے کہ جس طرح کا چکوال میں سردار ذوالفقار دلہہ اور شیخ وقار علی کا۔

ملکی سطح پر اس قسم کے پارٹی کو ڈبونے والے کردار دانیال عزیز اور طلال چوہدری پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے شہرت و دوام حاصل کر چکے ہیں۔ اس کارروائی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ یہ بڑی جماعت اب محض "ڈنگ ٹپا "رہی ہے اور عملی سیاست سے قریباً باہر ہے۔ پرانی راہ پر اب پی ٹی آئی کے نئے کھلاڑی گامزن ہیں۔
جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے بعد چکوال میں پی ٹی آئی کے دیگر درجن بھر رہنما تو خاموش ہی رہتے ہیں مگر ایم این اے سردار ذوالفقار دلہہ اور شیخ وقار علی اکثر شگوفے چھوڑتے رہتے ہیں اور انھی حضرات کی بدولت سیاسی گلشن کا کچھ کاروبار چل رہا ہے ۔
اول اول دنوں میں جب سردارذوالفقار دلہہ نے سابق ڈی سی چکوال غلام صغیر شاہد کو فون یا بذریعہ رقعہ پٹواریوں کی ادلی بدلی کا حکم دیا تو اس کے جواب میں ڈی سی نے افسران بالا اور چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ مارا۔ خاکسار اتفاقاً اس وقت ڈی سی چکوال کے پاس ہی تھا اور خبر کا پہلا اردو متن بھی خود ہی تیار کیا تھا۔ میرا خیال یہ تھا کہ اس خبر سے نو منتخب اراکین اسمبلی سرکاری افسران کو مرضی سے کام کرنے دیں گے اور حالیہ دور والی دھکا شاہی نہیں رہے گی۔یہ خیال کافی حد تک درست ثابت ہوا ہے کہ اس کے بعد اب تک منتخب اراکین اسمبلی نے ایسی کوئ کوشش نہیں کی یا پھر سامنے نہیں آئ۔ اسی شام یہ خبر ملک بھر میں پھیل گئی اور عمران خان نے اس کا نوٹس لے لیا تھا۔
پی ٹی آئی چکوال کے ان دونوں رہنماؤں کا انداز تھوڑا کھلا ڈلا ضرور ہے مگر دونوں بات سیدھی سیدھی کرنےکے عادی ہیں۔اس وجہ پی ٹی آئی کے ورکرز کو کبھی کبھار مشکلات کا سامنا بہرحال کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات تو صورتحال ایسی ہو جاتی ہے کے دفاع بھی مشکل دکھائی دیتا ہے ۔ یہ بات البتہ ضرور ہے کہ سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کا معاملہ اگر صحافیوں کے ساتھ ہو تو پھر تو آسانی رہتی ہے اور بآسانی سارا ملبہ اٹھا کر صحافیوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔
شیخ وقار علی نے تازہ واقعہ میں اب کے کچھ ایسی ہوا چلائی ہے کے پی ٹی آئی کے دوستوں کے بھی سٹی گم کر دی ہے ۔پاکستان مسلم لیگ ن کے دوستوں کو بھی بڑے دنوں کے بعد بالآخر موقع میسر آ ہی گیا اور وہ سب صفیں باندھ کر اے سی چکوال مظفر مختار کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ ابھی کچھ دن پہلے تک یہی اے سی مظفر مختار ان دوستوں کو نہیں بھا رہے تھے۔ وہ ان کے اقدامات یعنی دکانیں وغیرہ سیل کرنے اور جرمانے چالان کرنے کو عوام دشمن قرار دے رہے تھے۔ خیر اب انہوں نے شیخ وقار کے خلاف ایک" عوام دوست" قدم اٹھایا تو پاکستان مسلم لیگ نون کے دوست بھی ان کے ساتھ آکر کھڑے ہوگئے تھے ۔ صورت حال مگر یکدم بدل گئی کہ فریقین کے درمیان کچھ صلح صفائی کا معاملہ چل پڑا تو لیگی دوستوں نے توپوں کا رخ پھر اے سی کی طرف موڑ دیا۔
شیخ صاحب چکوال کی سیاست کا بہت دلچسپ کردار ہیں ۔ عروج پر تھے تو غالباً 2013 کے الیکشن میں لاکھوں کروڑوں روپے کے اخراجات کے بعد بالٹی کے نشان پر 10 ہزار سے زائد ووٹ لے لیے ۔اس سے پہلے ایک بلدیات میں غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق کل 44 لاکھ روپے لگا کر صرف 88 ووٹ لیے تھے۔ کمی بیشی کی پیشگی معذرت چاہتا ہوں ۔جب سے سیاست میں آئے ہیں نت نئے شگوفے پھوٹتے رہتے ہیں ۔اول سردار غلام عباس خان کے ساتھ تھے۔ وہاں سے چلے تو پاکستان مسلم لیگ ن میں آگئے ۔پھر ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد الیکشن لڑ دیا پھر پاکستان مسلم لیگ ن سے صلح کر لی مگر اب خیر سے پی ٹی آئی میں ہیں ۔پی ٹی آئی کو وہ مالی طور پر کچھ کمزور حالت میں ملے ہیں ۔
جماعتیں بدلنے کا سب سے بڑا فائدہ شیخ وقار علی خان کو یہ رہا کہ اب انہیں ہر اقدام کے بعد اپنی پرانی سیاسی جماعت سے کچھ نہ کچھ حمایتی مل ہی جاتے ہیں ۔ہوں تو میں بھی اے سی مظفر مختار اور شیخ وقارعلی دونوں کا "حمایتی" مگر کیا کیا جائے کہ اپنا کچھ لکھنے لکھانے کا شغل بھی ہے ۔
شیخ صاحب زندہ دل آدمی ہیں ۔کبھی چھپڑ میں پریس کانفرنس کرتے تھے تو تقریباً سارے صحافی جاتے ۔اچھی گپ شپ کے ساتھ اچھا کھانا پینا بھی مل جاتا ۔ایک بار ان دنوں میں اپنے سیاسی مخالف(ان دنوں) چوہدری سلطان حیدر علی خان کا نام بگاڑ کر کہنےلگے کہ "تم لینڈکروزر کی بات کرتے ہو میں تو ہیلی کاپٹر لا کر کھڑا کرنے والا ہوں"۔ بعد غالباً یہی ہیلی کاپٹر فواد چوہدری نے سستے داموں اڑایا تھا۔اس بات میں البتہ مجھے کم از کم کوئی شک نہیں کہ سیدھے سادے انسان ہیں اور عوامی حمایت کا کچھ درد بھی دل میں رکھتے ہیں ۔ اس کا مگر کیا کیا جائے کہ گفتگو کا سلسلہ بیشتر گالیوں سے ہی جوڑ کر آگے بڑھانے کے عادی ہیں۔
تازہ ترین واقعہ یہ ہوا ہے کہ اے سی چکوال مظفر مختار نے نہ صرف ان کے خلاف ایف آئی آر کٹوا دی ہے بلکہ ان کے خلاف ایک ویڈیو بیان بھی جاری کردیا ہے ۔اے سی صاحب کے اس ویڈیو بیان سے شیخ صاحب کے ویڈیو بیان کی بھی چمک ماند پڑ گئی ہے ۔شیخ صاحب نے مختصر جیل یاترا کے دوران اے سی چکوال کے لئے جو الفاظ استعمال کیے ہیں وہ میں یہاں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ اس ویڈیو کے بعد جو ویڈیو اے سی صاحب نے جاری کی ہے وہ اس سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔ گویا شیخ صاحب کی ویڈیو اگر ہٹ تھی تو اے سی صاحب کی سپرہٹ قرار پائی ۔اس پر عام شہری نے شیخ وقار کی "عوامی خدمات " پر ایک میگا ہٹ ویڈیوجاری کردی ہے جو آج سارا دن سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی۔ اگر مل جائے تو سنیں اور سر دھنیں۔
یہاں پر تو جو ہوا سو ہوا مگر تبدیلی سرکار کے منتخب نمائندوں نے شیخ وقارعلی کو جیل سے نکلوانے کے لیے ڈی سی چکوال اور اے سی چکوال سے گفت و شنید کی اور پھر خبر چلی کہ ان کی صلح ہو گئی ہے ۔شیخ وقارعلی کی ضمانت آج ہوچکی ہے۔ وہ تھنیل جیل کورٹ اور وہاں سے سیدھے گھر چلے گئے۔ اگر وہ کیس لڑتے بھی تو یہ اتنا سنجیدہ نوعیت کا معاملہ نہیں تھا اور ان کی جلد گلو خلاصی ہو جاتی۔
اب شیخ صاحب تو نکل گئے ہیں مگر اے سی چکوال مظفر مختار جونہایت قابل آفیسر ہیں نہ جانے کس کے کہنے پر ویڈیو بنوا کر بری طرح پھنس چکے ہیں۔ اب اگر شیخ وقار نرمی دکھائیں تو اے سی صاحب بچ سکتے ہیں بصورت دیگر شیخ وقارعلی کا کیس مضبوط ہے۔ شیخ وقار کے خلاف کار سرکار میں مداخلت، گالم گلوچ یادھمکی وغیرہ کی جو بھی کارروائی ہوگی سو ہوگی اور وہ انہیں جواب دینا ہی ہو گا مگر اے سی چکوال بھی اپنے اس ویڈیو بیان سے انکار نہیں کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے لیے ان الزامات کو عدالت میں ثابت کرنا آسان ہو گا۔ اگر شیخ وقار ان پر ہتک عزت کا دعوی دائر کر دیتے ہیں تو اس سے ان کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔
ان کے ویڈیو بیان میں جو باتیں انہوں نے کہی ہے ان کو کسی بھی سطح ثابت کر دینا بہت مشکل دکھائی دیتا ہے ۔اے سی صاحب کا جو بنے سو بنے مگر اب شیخ وقارعلی بھی مقامی سیاست سے فارغ ہوگئے ہیں۔ اے سی چکوال اور شہری کی جانب سے سنگین الزامات کے بعد اگر وہ ان کا دفاع نہیں کرتے تو اس مطلب انہیں قبول کر لینا ہے۔ سیاست میں ایسے بوتل بند قسم کے جن سالہا سال گزر جانے کے بعد بھی نکل آتے ہیں۔
اب وہ جس روز بھی الیکشن لڑنے کی کوششں کریں گے اسی روز یہ ویڈیو بیان ان کی آنکھوں کے سامنے آ کھڑا ہو گا ۔ ان الزامات کو اگر یہ غلط بھی ہوں تو ہمارے معاشرے میں فوری قبولیت عامہ حاصل ہو جاتی ہے۔چکوال میں تو چھوٹی چھوٹی باتوں کو برسوں بلکہ ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے ۔یہ ویڈیو بیان غلط ہے یا صحیح اس کا کیا فیصلہ ہوا تھا یا نہیں مستقبل میں کسی نے ہر گز نہیں دیکھنا بلکہ ان کا فیصلہ یہ ویڈیو دیکھ کر ہی ہوگا۔گویا شیخ صاحب کو سیاسی طور پر گڈبائے۔
بہتر ہوتا کہ اے سی چکوال جذبات میں آکر بھی صرف وہی باتیں کرتے جو انہوں نے ایف آئی آر میں کی ہیں۔ بہرحال اب تیر کمان سے نکل چکا ہے۔ شیخ وقار بھی باہر آگئے اور گیند اب ان کے کورٹ میں ہے۔ کہ وہ اس معاملے پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔ تبدیلی سرکار کے منتخب نمائندے جنہوں نے معاملہ ڈی فیوز کیا ہے اس سلسلے میں شاید اب بھی کردار ادا کریں۔ آج کل کرونا کی زد میں بیٹھی ڈھیر سارے فاضل وقت کے ساتھ چکوال کی عوام کی نظریں اس قضیئے پر ہیں کہ شیخ صاحب اور اے سی صاحب کے اونٹ کس کروٹ بیٹھتے ہیں۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ شیخ وقار کی جگہ اگر کوئی عام بندہ ہوتا تو کیا منتخب اراکین اسمبلی اس کے لیے بھی یہ تردد کرتے؟ میرا خیال ہے کہ شاید باہر نکلنا بھی گوارا نہ کرتے۔ اگر عام بندہ اس قسم کی حرکت کر دیتا تو کیا یہ اراکین اسمبلی ڈی سی چکوال اور اے سی چکوال کے پاس جاکر اس کی بھی ایسی ہی حمایت کرتے؟ جبکہ اس کا جرم ویڈیو بیان کی شکل میں سامنے ہوتا. یقیناً نہیں اور یہ اچھی بات ہے کہ قانون کو اپنا کام کرنے دیا جائے ۔
اپنے چھوٹے چھوٹے راہنماؤں کے لیے مگر تبدیلی سرکار کے یہ نمائندے قانون کو موم کی ناک بنانے کی کوشش کیوں کرتے ہیں ؟ عوام کے لئے تو شاید تھانے فون تک نہیں کرتے اور اس کا جواز یہ بتاتے ہیں کہ خان نے بہت سختی کر رکھی ہے۔ لگتا یہ ہے پی ٹی آئی کے ایک چھوٹے سے مقامی رہنما کے لیے غالباً خان نے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔
آخر میں یہ کہ دونوں طرف کے الزام آخر جائیں گے کہاں ؟ یہ کوئ مذاق نہیں ہے کہ ایک ذمہ دار افسر اور تبدیلی کے دعویدار اپنی اپنی فلم دکھاتے رہیں اور لوگ دیکھتے رہیں۔ اس قسم کے کیس کو منطقی انجام تک ضرور جانا چاہیے۔ ویسے ان حضرات کو فلم بنا کر عوام کو یہ راگنی سنانے سے پہلے اس کی اچھی طرح مشق کر کے راگ پختہ کر لینا چاہیے تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں