ضلع چکوال سے تازہ ترین خبریں

ہیڈلائن نیوز

Post Top Ad

Your Ad Spot

اتوار، 10 مئی، 2020

فرقہ واریت کی آگ میں جلتی مملکتِ خداداد

تحریر: مہتاب احمد تابی چینجی
03468570344
03035624465
یوں تو سیّد بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو، 
 تُم سبھی کُچھ ہو، بتاؤ تو مُسلمان بھی ہو؟ 
اُمتِ مسلمہ کے حقوق کی ترجمانی کرتے ہوئے لا اله الا الله کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والی مملکت خداداد پاکستان کو فرقہ واریت کی آگ میں یوں دھکیل دیا گیا کہ آج سُنی، شیعہ، وہابی، بریلوی اور دیوبندی تو موجود ہیں مگر خود کو مسلمان کہلوانے کیلئے کوئی بھی تیار نہیں. اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے ہمیں کبھی سبز امامہ پہنا دیا گیا تو کبھی سیاہ، کبھی سُفید تو کبھی سُرخ. اُس اُمتِ مسلمہ کو ایک دوسرے کے دست و گریباں کر دیا گیا جس کے نبیؐ نے مسلمانوں بلکہ غیرمسلموں کے ساتھ بھی حُسنِ سلوک کی تعلیم دی. جنگ کے دوران بھی مخالفین کی عزتِ نفس اور چادر اور چاردیواری کے تقدس کو ملحوظِ خاطر رکھنے کی تعلیم دی. جِس نے اپنے عمدہ اخلاق کی بدولت شاہِ حبش کو بھی دینِ حق کا علم بلند کرنے پر مجبور کر دیا. لیکن افسوس آج محمد عربی کی امت خود کو مسلمان سے زیادہ سُنی، بریلوی، دیوبندی، وہابی اور شیعہ کہلوانے پر فخر محسوس کرتی ہے. مسلکی اختلافات کی بنا پر کلمہ طیبہ پڑھنے اور محمدؐ کے نبی آخر الزماں ہونے کی داعی اُمت اپنے ہی مسلمان بھائی کے دست و گریباں ہو کر کافر ثابت کرنے چل نکلی ہے. 
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ "جس شخص نے جانتے بوجھتے کسی دوسرے کو باپ بنایا تو یہ بھی کفر کی بات ہے اور جس شخص نے ایسی بات کو اپنی طرف منسوب کیا جو اس میں نہیں ہے تو ایسا شخص ہم میں سے نہیں ہے اور اس کو اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنانا چاہئے اور جس نے کسی کو کافر کہا یا اللہ کا دشمن کہہ کر پکارا حالانکہ وہ ایسا نہیں ہے تو یہ کلمہ اسی پر لوٹ آئے گا".
کیسی بخشش کا یہ سامان ہوا پھرتا ہے، 
شہر سارا ہی پریشان ہوا پھرتا ہے،
کیسا عاشق ہے ترے نام پہ قرباں ہے مگر، 
تیری ہر بات سے انجان ہوا پھرتا ہے، 
شب کو شیطان بھی مانگتا ہے پناہیں جس سے، 
صبح وہ صاحب ایمان ہوا پھرتا ہے، 
جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر،
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے۔
ہماری حالت یہ ہے کہ ایک ہی خدا اور ایک ہی رسولؐ کو ماننے والے اور ایک ہی کلمہ پڑھنے والے آج ہر گلی اور چوراہے میں کافر کافر کے نعرے لگا کر اپنے ہی بھائی کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کیلئے عدالتیں لگائے ہوئے ہیں. حتیٰ کہ حالیہ دنوں میں ملک میں آنیوالی عالمی وبا کورونا وائرس کو بھی زوار، حاجی اور تبلیغی ثابت کرنا شروع کر دیا گیا. 
کہتے ہیں کہ جب ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا تھا تو اُس وہاں شیعہ، سُنی اور وہابی کہلوانے والوں کی تو کثیر تعداد موجود تھی مگر خود کو مسلمان کہلا کر اپنا دفاع کرنے والا کوئی نہ تھا جبکہ دوسری جانب ہلاکو خان نے سب کو مسلمان سمجھ کر خوب خون خرابہ کیا. 
گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تحریر پڑھنے کو ملی کہ اگر آپ کا پڑوسی دیوبندی، بریلوی، شیعہ، وہابی یا سُنی ہے تو اس کا جواب اس نے خود دینا ہے لیکن اگر وہ بھوک سے مر گیا تو اس کا جواب آپ کو دینا پڑے گا.
معزز قارئین! میری درخواست ہے کہ خُدارا فرقہ واریت اور شدت پسندی کے جھگڑوں سے نکل کر محبتیں بانٹنے کی کوشش کریں کیونکہ ہمارے نبیؐ نے ہمیں یہی درس دیا ہے.
اُمتِ مسلمہ کو فرقہ واریت کے اس گرداب سے نکالنے کیلئے مولانا طارق جمیل صاحب، مولانا شہنشاہ حُسین نقوی صاحب اور دیگر علمائے کرام کی کاوشیں لائقِ تحسین ہیں. دعا ہے اللہ ربُ العزت ہمیں ان اختلافات سے چھٹکارا نصیب فرمائیں تاکہ ہم بحیثیتِ مسلمان تمام اندرونی و بیرونی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے اپنے حقوق کا دفاع کر سکیں. 
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

Your Ad Spot

صفحات